احمدآباد،5؍اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )گجرات سرحدی ریاست ہے اور ساتھ ہی دہشت گردی کے لحاظ سے حساس ریاست بھی ہے، لیکن پھر بھی گجرات میں گزشتہ طویل وقت سے انچارج ڈی جی پی سے ہی کام چل رہاہے۔ پی پی پانڈے سپریم کورٹ میں کیس کی وجہ سے جدائی تک انچارج ڈی جی پی رہے۔ ان کے بعدگیتاجوہری بھی انچارج کے طور پر ہی آئی ہیں۔ اس صورت میں متنازعہ مسائل پرکوئی بولنا نہیں چاہتا۔پہلے ڈی جی پی پی سی ٹھاکرتھے۔کسی وجہ سے ایک سال پہلے ان کی مدت تعیناتی کئی ماہ کا باقی ہونے کے باوجودان کا تبادلہ کر دیاگیا اورڈیپٹیشن پربھیج دیاگیا۔ اس وقت سینئرپولیس افسروں میں پی پی پانڈے سب سے سینئرتھے۔ذرائع کی مانیں تو پانڈے کو حکومت ڈی جی پی بنانا چاہتی تھی، لیکن عشرت جہاں کیس ان کے سامنے چل رہاتھا۔اس صورت میں کرکری نہ ہو تو انہیں انچارج ڈی جی پی بنایاگیاتھا۔ابھی وجہ یہ دی جا رہی ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے گزشتہ سال اکتوبر میں ایک ہدایت سامنے آئی ہے کہ اگر کل وقتی ڈی جی پی بنایا جائے تو اس کا دور کم از کم دو سال تک رکھیں گے۔گیتاجوہری اسی سال نومبر میں ریٹائر ہو رہی ہیں۔وجہ جو بھی ہولیکن سربراہ نہ ہونے سے پولیس کے کام پر اثر تو پڑتا ہی ہے اور انچارج سے کبھی بھی چارج لیاجاسکتاہے۔محکمہ پولیس میں آہٹ یہی ہے کہ ڈی جی پی کی تقرری ریاست میں سیاسی وجوہات کی بناء پر رک رہی ہے۔ لیکن دہشت گردی کے ساتھ ساتھ سماجی تحریکوں سے بھی برسرپیکار ریاست کو کل وقتی ڈی جی پی کی ضرورت ہے۔